7 مئی 2026 - 08:53
دشمن اپنی طاقت اور غرور کے عروج پر سقوط و زوال سے دوچار ہوجاتا ہے

حتمی پیغام یہ ہے کہ دشمن شاید دھمکی دے، مذاق اڑائے، اور عارضی طور پر پیش قدمی بھی کر لے، لیکن اس کے راستے کا انجام بند اور واضح ہے۔ اس کے مقابلے میں، حق کا محاذ اگر اپنے راستے پر ثابت قدم رہے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی ایک یقینی مستقبل کی امید رکھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورہ یٰسین کی آیات 49 اور 50 "ایک ناگہانی چیخ" کے بارے میں بات کرتی ہیں اور اس لمحے کی تصویرکشی کرتی ہیں جب دشمن اپنے غرور کی انتہا پر اور روزمرہ کی مشغولیات کے دوران اچانک، غیر متوقعہ شکست کے باعث، گر جاتا ہے، بغیر اس کے کہ اسے واپسی یا حتیٰ کہ وصیت کرنے کا موقع ملے۔

 سورہ یٰسین کی آیات 41 تا 54، غافل انسان کو بیدار کرنے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے، خدا کی قدرت کی نشانیوں اور قیامت کے مناظر کی یاد دہانی پر زور دے کر، حق اور باطل کے انجام کار کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔ تفسیر "المیزان" میں یہ آیات بیک وقت دشمن شناسی، ظلم کے انجام، استقامت کی ضرورت اور انتہائی مشکل حالات میں امید دلانے کے بارے میں گہرے پیغامات کی حامل ہیں۔

دشمن اپنی طاقت اور غرور کے عروج پر سقوط و زوال سے دوچار ہوجاتا ہے

نشانیاں دیکھو، غفلت سب سے پہلی شکست ہے

آیات کا آغاز "انسان کو کشتی میں سوار کرنے" اور نقل و حرکت کے دیگر ممکنہ ذرائع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہوتا ہے، یہ ایک نعمت ہے جسے اگر خدا چاہے تو آسانی سے چھین سکتا ہے۔ علامہ طباطبائی المیزان میں لکھتے ہیں کہ یہ یاد دہانی محض ایک نعمت کا بیان نہیں، بلکہ مغرور انسان کے لئے ایک انتباہ ہے کہ تمام ظاہری سہاروں کا انحصار درحقیقت اللہ کی مشیت پر ہے۔

دشمن کے ساتھ مقابلے کے میدان میں بھی، ایک تزویراتی خطا یہ ہے کہ محض آلات اور اوزاروں پر انحصار کیا جائے اور خدا کی سنتوں سے غفلت برتی جائے۔ یہ آیات سکھاتی ہیں کہ اگر کوئی معاشرہ غفلت کا شکار ہو جائے تو اس کے وسائل بھی اس کی کمزوری کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔ لہٰذا، مزاحمت کا پہلا قدم حقیقت کو درست دیکھنا اور حقیقی طاقت کے منبع کو پہچاننا ہے۔

غافل دشمن، انتباہات کو سنجیدہ نہیں لیتا

اس کے بعد، قرآن منکرین کے ردعمل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے اور پیچھے سے آنے والے عذاب سے ڈرو، تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ یہ منہ موڑنے کا عمل ایک گہری بیماری کی علامت ہے، یعنی ہٹ دھرمی اور ضدی پن کی وجہ سے فہم و ادراک کا امکان ختم جانا۔

اس منطق میں دشمن محض ایک بیرونی قوت نہیں، بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جو جان بوجھ کر حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے، انتباہات کا مذاق اڑاتا ہے اور سلامتی کے وہم میں ہلاکت کی راہ پر آگے بڑھتا ہے۔ یہ شناخت مؤمن معاشرے کے لئے اہم ہے، جو دشمن انتباہ قبول نہیں کرتا، وہ قابل اعتماد بھی نہیں اور اس کا سامنا حقیقت پسندی اور ہوشیاری سے کرنا چاہئے، نہ کہ مسائل کو سادہ سمجھ لے۔

باطل محاذ کا مستقل ہتھیار انکار اور تضحیک ہے

ان آیات میں دشمنی کا ایک پہلو الٰہی وعدوں کی تضحیک (مذاق و تمسخر) اڑانا ہے: یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ یہ سوال حقیقت کی تلاش کے بجائے ایک طرح کی تضحیک و تمسخر ہے، یعنی جب بھی انصاف اور حساب کتاب کی بات ہوتی ہے تو دشمن اسے مذاق میں اڑاتا ہے۔

یہ رویہ ہر دور میں دہرایا جاتا ہے، یعنی باطل کا محاذ مؤمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے مستقبل کو مبہم اور وعدوں کو غیر حقیقی بنا کر پیش کرتا ہے۔ لیکن قرآن کا جواب واضح ہے، وعدوں کی تکمیل اچانک اور حتمی ہوگی، اس طرح کہ کسی ردعمل کا موقع باقی نہیں رہے۔

دشمن کا اچانک خاتمہ، تلافی کا کوئی موقع نہیں

آیات "ایک چیخ" کی تصویر کے ساتھ، جاری رہتی ہیں، ایک ایسی چیخ جو سب کچھ ختم کر دیتی ہے، جب کہ انسان ابھی اپنے روزمرہ کے معاملات میں مصروف ہیں۔ یہ چیخ زندگی کے معمول کے سلسلے کے اچانک کٹ جانے اور احتساب  کے آغاز کی علامت ہے۔

یہ حصہ دونوں محاذوں کے لئے ایک سنگین انتباہ کا حامل ہے، یعنی دشمن کے لئے جو سمجھتا ہے کہ اس کے پاس لامحدود مواقع ہیں اور مؤمن کے لئے جسے وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ مزاحمت کے میدان میں، اس کا مطلب ہے بروقت فیصلہ کرنا، کیونکہ تأخیر مواقع کو ختم کر سکتی ہے۔

انصاف بلا کم و کاست نافذ ہوتا ہے

قیامت کے میدان میں داخل ہوتے ہوئے، قرآن ایک بنیادی اصول پر زور دیتا ہے، کہ "آج کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا اور ہر شخص اپنے عمل کی پاداش پائے گا۔" یہ آیت انصاف کی مکمل تکمیل و تنفیذ کا اظہار ہے، ایک ایسا انصاف جو نہ خطا کا شکار ہوتا ہے اور نہ طاقتوں کے زیر اثر آتا ہے۔

یہ پیغام مشکل حالات میں امید کی سب سے اہم بنیادوں میں سے ایک ہے۔ جب کوئی معاشرہ ظلم اور جارحیت کا نشانہ بنتا ہے تو شاید مختصر مدت میں اسے دشمن کی سزا کے کوئی آثار نظر نہ آئیں۔ لیکن یہ آیات یاد دلاتی ہیں کہ کوئی ظلم بے جواب نہیں رہتا، چاہے اس کا وقت آنے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔

حق کے لئے چین و سکون، باطل کے لئے حسرت

اس کے بعد، دو بالکل متضاد تصویریں تشکیل پاتی ہیں، جنتی لوگ سکون، لطف اور امن میں ہیں، اور اس کے مقابلے میں، مجرم حسرت اور عذاب میں۔ یہ تضاد نہ صرف انفرادی اعمال کا نتیجہ ہے، بلکہ دنیا میں راستے کے انتخاب کی پیداوار ہے۔

یہ حصہ مزاحمت کے لئے ایک تزویراتی پیغام کا حامل ہے، کہ حق کا راستہ، چاہے مشکلات کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، پائیدار سکون کی طرف لے جاتا ہے اور باطل کا راستہ، چاہے عارضی طور پر کامیاب کیوں نہ لگے، بالآخر زوال اور حسرت پر منتج ہوتا ہے۔

دشمن حتی کہ اپنے دفاع سے عاجز ہے

آخری آیات میں، منہ پر مہر لگنے اور اعضائے جسم کی گواہی دینے کا ذکر ہے۔ علامہ اسے ہر قسم کے دھوکے اور جھوٹ کے خاتمے کی علامت سمجھتے ہیں۔ اب نہ زبان انکار کر سکتی ہے اور نہ حقیقت کو مسخ کرنے کی کوئی طاقت باقی ہے۔

یہ تصویر دشمن کی انتہائی بے بسی کو عیاں کرتی ہے، وہ رجحان جو دنیا میں پروپیگنڈے اور دھوکے سے آگے بڑھتا رہا تھا، اور بالآخر اپنا دفاع کرنے کی بھی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یہ ایک یقینی وعدہ ہے جو مؤمنوں کے دلوں میں یقین اور استقامت پیدا کر سکتا ہے۔

یقین پر مبنی مزاحمت

ان تمام آیات کا مجموعہ ایک واضح راہنما نقشہ پیش کرتا ہے: دشمن کی صحیح پہچان، غفلت سے بچنا، خدا کی سنتوں پر بھروسہ رکھنا، اور انصاف کی تکمیل پر یقین رکھنا۔ اس فریم ورک میں، مزاحمت ایک جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے جو یقین پر استوار ہے۔

حتمی پیغام یہ ہے کہ دشمن شاید دھمکی دے، مذاق اڑائے، اور عارضی طور پر پیش قدمی بھی کر لے، لیکن اس کے راستے کا انجام بند اور واضح ہے۔ اس کے مقابلے میں، حق کا محاذ اگر اپنے راستے پر ثابت قدم رہے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی ایک یقینی مستقبل کی امید رکھ سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فرورہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha